ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / آندھرا پردیش کے مندر میں کورونا کے کہرام پر میڈیا خاموش

آندھرا پردیش کے مندر میں کورونا کے کہرام پر میڈیا خاموش

Thu, 20 Aug 2020 12:40:38    S.O. News Service

بھوپال، 20؍ اگست (ایس او نیوز؍ایجنسی) آندھرا پردیش کے معروف وینکٹ ایسوارا مندر میں کام کرنے والے اب تک کم ازکم 743 افراد میں کووڈ۔19 کی شناخت ہوئی ہے جبکہ ان میں سے 3؍ ہلاک ہوچکے ہیں اس بارے میں خبریں گذشتہ تین ہفتوں سے چل رہی تھی اور مطالبہ کیا جارہا تھا کہ بڑھتے ہوئے متاثرین کے پیش نظر اس مندر کو بند کیا جائے۔ اس بات کی خبر اردو روزنامہ صحافت کے ذریعے ملی ہے۔

رپورٹ کے مطابق حکام نے کہا کہ وہ حفاظتی اقدامات اٹھائیں گے لیکن انہوں نے مندر کو بند کرنے سے انکار کیا ہے۔ خیال رہے کہ آندھراپردیش  ملک کی ان ریاستوں میں شامل ہے جہاں کووڈ۔19 کا مرض سب سے تیزی سے پھیل رہا ہے مگر میڈیا کی جانب سے مندر میں  وباکوبا پھیلاؤ کے بارے میں خبریں نشر کرنے میں وہ اہمیت نہیں دیکھنے میں آرہی ہے جو ماضی میں تھی ۔ تاہم مارچ کے مہینے میں میڈیا کا رویہ کچھ اور تھا جب نئی دہلی میں تبلیغی جماعت کے اجتماع میں شرکت کرنے والے کئی افراد میں کووڈ۔19 کی شناخت ہوئی۔ اس موقع پر میڈیا میں چلنے والی خبروں پر تجزیہ نگاروں کا کہنا تھا کہ جعلی خبریں اور سازشی خیالات پر مبنی خبریں چلانے سے مذہبی تعصب کو جلا بخشا گیا ۔

انڈین نیوز ویب سائٹ ’’نیوز لانڈری‘‘ پر لکھا گیا کہ ’’انڈین میڈیا، بالخصوص ٹی وی میڈیا میں مسلمانوں کے خلاف مسلسل متعصّبانہ رویہ اختیا ر کیا گیا ہے‘‘۔ ہندی زبان میں چلنے والے چینلوں پر تو نہایت اشتعال انگیز زبان استعمال کی گئی تھی۔ ہندی زبان کے ایک چینل کے سربراہ نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ ہمیں کورونا جہاد سے بہت خیال رکھنا ہوگا اور ان جہادیوں کے خلاف مقدمہ چلانا ہوگا۔

واضح رہے کہ ہندوستان میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ تبلیغی جماعت کے اجتماع کو قرار دیا گیا تھا جب اس میں شرکت کرنے والے کئی افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی۔ کچھ افراد نے تبلیغی جماعت کے افراد کی حب الوطنی پر بھی سوال اٹھایا تھا اور الزام لگایا تھا کہ انہوں نے قوم سے جھوٹ بولا اور دھوکہ دیا۔

لیکن مندر میں متاثرین اور ان سے وباءکے پھیلاؤ کے بارے میں ایسا کچھ نہیں کیا گیا اور نہ ہی میڈیا میں اس بارے میں زیادہ ذکر ہوا ہے۔ خبروں میں اس نوعیت کے متعصّبانہ رویے کی مزید شناخت اس وقت ہوئی جب اگست میں وزیر اعظم نریندر مودی نے ایودھیا میں بابری مسجد کے مقام پر رام مندر کی تعمیر کا افتتاح کیا۔

ملک کے میڈیا کے ایک طبقہ نے ایودھیا میں ہونے والی تقریب کی شاندار کوریج دکھائی اور اس بات پر زور دیا کہ ہمیں بڑے مسائل پر توجہ دینی چاہئے۔ تفصیلات کے مطابق اب میڈیا صرف بی جے پی کے لیے پبلک ریلیشنز کا کام کررہا ہے اور ان کو ایسا پیش کررہا ہے کہ ’’وہی ہیں صرف انڈیا کی رکھوالی کرنے والے‘‘۔


Share: